یہاں پر آپ شاعری پڑھ سکیں گے۔
کچھ یاد نہ آنے کی دعا مانگ رہا ہوں
اے رسمی تسلی سے، دلاسوں سے بھرے شخص
سب نقش مٹانے کی دعا مانگ رہا ہوں
میں ضبط بڑھانے کی دعا مانگ رہا ہوں
یوسف نہ سہی پھر بھی کسی دستِ طلب سے
کُرتے کو بچانے کی دعا مانگ رہا ہوں
ممکن ہے سرک جاۓ ترے دل کی گُپھا سے
پتھر کو ہٹانے کی دُعا مانگ رہا ہوں
پُر اشکِ مناجاتِ مسلسل ہے مری آنکھ
اک شخص کے شانے کی دعا مانگ رہا ہوں
پھر طاقِ تعلق کے چراغوں کو خبر دو
اک شام منانے کی دعا مانگ رہا ہوں
اب آنکھ رکابی کا نمک بڑھنے لگا ہے
کچھ خواب جلانے کی دعا مانگ رہا ہوں
No comments:
Post a Comment